dark-dragon.icu
6 سال UBER EATS میں ڈیلیوری کی۔ ایک ہی علاقہ۔ پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا 🚫 میرا نام سلمان ہے۔ میری عمر 26 سال ہے۔ میں پاکستانی ہوں۔ میں برمنگھم کے علاقے Sparkhill میں رہتا ہوں۔ عام سا علاقہ ہے، ہر کونے پر halal takeaway، پاکستانی ریسٹورنٹس، چھوٹی grocery shops، ہر وقت ٹریفک، بسیں، اور مسلسل رش۔ جب میں برطانیہ آیا تھا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ ٹھیک طرح کی انگریزی۔ نہ یہ سمجھ کہ یہاں زندگی کیسے چلتی ہے۔ صرف ویزا، فون، اور یہ خواہش کہ کسی طرح سیٹ ہو جاؤں۔ اب میں Uber Eats میں courier کا کام کرتا ہوں۔ KFC، McDonald's، Pakistani food، pizza، burgers، chicken shops، Costa Coffee، سب کچھ ڈلیور کرتا ہوں۔ کئی سالوں سے ایک ہی علاقے میں کام کر رہا ہوں۔ صبح 5:30 بجے اٹھتا ہوں۔ الارم بجتا ہے۔ باہر ابھی اندھیرا ہوتا ہے۔ سردیوں میں بارش، ہوا اور ٹھنڈ۔ گرمیوں میں صبح سے ہی گھٹن۔ آدمی آٹو پائلٹ پر اٹھتا ہے۔ گھر میں جلدی سے chai یا سستی coffee بنا لیتا ہوں۔ بس آنکھ کھولنے کے لیے۔ 6:30 بجے تک باہر ہوتا ہوں۔ پرانا scooter یا سائیکل، دن پر منحصر ہے۔ فون، ایپ، اور پھر کام شروع۔ پہلا آرڈر coffee اور breakfast wrap کا۔ پھر KFC، McDonald's، local takeaway، pizza shop، پاکستانی ریسٹورنٹ۔ صبح 8 بجے تک پوری طرح کام میں مصروف۔ سردیوں میں بارش گھنٹوں چلتی رہتی ہے۔ دستانے بھیگ جاتے ہیں۔ انگلیاں سن ہو جاتی ہیں۔ گرمیوں میں شدید گرمی اور مسلسل تھکن۔ لیکن چلتے رہو۔ کیونکہ اگر نہیں چلو گے تو کمائی نہیں ہوگی۔ سب سے مشکل چیز موسم نہیں ہے۔ سسٹم ہے۔ ہر آرڈر کے ساتھ ٹائمر لگا ہوتا ہے۔ لیٹ ہوئے، ریٹنگ نیچے۔ ریٹنگ نیچے، آرڈرز کم۔ آرڈرز کم، پیسے کم۔ اور اسی وقت فون بجنا شروع ہو جاتا ہے۔ کسٹمرز۔ "Where are you?" "How long?" "Can you leave it outside?" اور تم جانتے ہو کہ یہ سب کرنا ناممکن ہے۔ اگلا آرڈر پہلے سے انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ ہر بندے کا انتظار نہیں کر سکتے۔ لیکن سمجھانا بھی بے فائدہ ہے۔ کبھی کبھی فون silent پر ڈال دیتا ہوں۔ ورنہ دماغ خراب ہو جائے۔ Sparkhill، Small Heath، Bordesley Green میں گھومتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی مزید دور بھی جانا پڑتا ہے۔ پرانے گھر۔ لفٹ کے بغیر عمارتیں۔ تیسری منزل۔ چوتھی منزل۔ پھر واپس نیچے۔ پھر نیا آرڈر۔ دوپہر تک ہاتھ بھ