Hamza Tariq — крутилось 1 дн, охват 273

Hamza Tariq с 2026-06-02 · картинка · 🇸🇦 арабский
Кадр рекламы Hamza Tariq
крутилось дней 1
охват — число Facebook, только ЕС 273
стран показа — словами Facebook 1
куда ведёт · кнопка «Play game» dark-dragon.icu https://dark-dragon.icu/ оффер
показывается в странах 🇬🇧 GB

dark-dragon.icu

8 سال سے Royal Mail میں کام کر رہا ہوں۔ وہی ایک علاقہ، وہی روز کا چکر۔ پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا 🔴 میرا نام حمزہ ہے۔ میری عمر 34 سال ہے۔ میں پاکستانی ہوں۔ میں برمنگھم کے علاقے Sparkhill میں رہتا ہوں۔ جب میں پہلی بار برطانیہ آیا تھا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ اچھی نوکری۔ نہ کوئی جان پہچان۔ نہ یہ یقین کہ یہاں رہ بھی سکوں گا یا نہیں۔ صرف ایک سوٹ کیس، کچھ کاغذات اور پیسے کمانے کی زبردست خواہش۔ ہم میں سے بہت سوں کی طرح میں بھی اس لیے آیا تھا کیونکہ سب کہتے تھے: "انگلینڈ میں کام ہے، بس محنت کرنی پڑتی ہے۔" تو میں نے محنت کی۔ بالکل صفر سے شروع کیا۔ آج 8 سال ہو گئے Royal Mail میں پوسٹ مین کی نوکری کرتے ہوئے۔ ایک ہی علاقے میں خط اور پارسل پہنچاتا ہوں۔ صبح 4:45 بجے اٹھتا ہوں۔ باہر ابھی اندھیرا ہوتا ہے۔ سردیوں میں بارش اور ٹھنڈی ہوا۔ گرمیوں میں تھوڑا بہتر ہوتا ہے، لیکن شفٹ پھر بھی سخت ہوتی ہے۔ جلدی سے چائے بناتا ہوں اور sorting centre کی طرف نکل جاتا ہوں۔ صبح 6 بجے تک وہاں پورا رش شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ ٹرولیاں۔ کنٹینرز۔ سکینرز۔ پارسل۔ دنیا بھر کے لوگ۔ پاکستانی۔ بھارتی۔ عرب۔ پولش۔ سب کام کر رہے ہوتے ہیں۔ سب جلدی میں ہوتے ہیں۔ Sorting۔ Loading۔ Route۔ اور پھر دوبارہ sorting۔ اس کے بعد ڈلیوری شروع ہوتی ہے۔ اور روز کا وہی معمول۔ ٹریفک۔ بارش۔ بند دروازے۔ غصے والے کسٹمرز۔ ایک گھر سے دوسرے گھر۔ ایک عمارت سے دوسری عمارت۔ سینکڑوں بار روز۔ اور آہستہ آہستہ وقت کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بس مشین کی طرح کام کرتے رہتے ہو۔ دوپہر تک کمر درد کرنے لگتی ہے۔ ٹانگیں جواب دینے لگتی ہیں۔ فون مسلسل بجتا رہتا ہے۔ اور تنخواہ؟ وہ اب اتنی نہیں بڑھتی جتنی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ جب میں نے شروع کیا تھا تب پیسے کافی ہوتے تھے۔ اب نہیں۔ کرایہ بڑھ گیا۔ کھانے پینے کا خرچ بڑھ گیا۔ بل بڑھ گئے۔ پاکستان گھر والوں کو پیسے بھیجنے ہی پڑتے ہیں۔ اور ہر مہینہ تقریباً ایک ہی طرح ختم ہوتا ہے۔ اکاؤنٹ تقریباً خالی۔ شام کو گھر واپس آتا ہوں۔ جوتے اتارتا ہوں۔ خاموشی میں بیٹھ جاتا ہوں۔ اور سوچتا ہوں: میں 34 سال کا ہوں۔ پورا دن کام کرتا ہوں۔ لیکن اگر کل کچھ ہو گیا تو میرے پاس تقریباً کوئی بچت نہیں۔ یہ ڈر نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ ایک خاص طور پر مشکل مہینہ تو مجھے مکمل

в библиотеке рекламы ↗
все объявления: рекламодатель Hamza Tariq →