Aisha Mazhari — крутилось 2 дн, охват 7k

Aisha Mazhari с 2026-05-12 · видео · 🇸🇦 арабский
крутилось дней 2
охват — число Facebook, только ЕС 7k
стран показа — словами Facebook 11
куда ведёт · кнопка «Play game» metagameskfwb.org https://metagameskfwb.org/ оффер
показывается в странах 🇦🇹 AT 🇧🇪 BE 🇩🇪 DE 🇪🇸 ES 🇫🇷 FR 🇮🇪 IE 🇮🇹 IT 🇱🇺 LU 🇳🇱 NL 🇵🇱 PL 🇷🇴 RO

🚀

میں نے یہ ویڈیو کراچی میں اپنی ایک سہیلی کو بھیجی تھی، اور جانتے ہیں کیا؟ مجھے اس دن جو کچھ ہوا اس پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔ میں جرمنی کے شہر برلن میں رہتی ہوں۔ میری پیدائش پاکستان کے شہر لاہور کی ہے۔ میں ایک کمرہ کرائے پر لیتی ہوں۔ اپارٹمنٹ نہیں — صرف ایک کمرہ۔ ایک ایسے اپارٹمنٹ میں جہاں تین اور لوگ رہتے ہیں جنہیں میں جانتی تک نہیں۔ میں ایک ہوٹل میں کام کرتی ہوں، صفائی کا کام۔ ہوٹل چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ میری شفٹ دوپہر 1:00 بجے سے رات 11:00 بجے تک ہوتی ہے۔ کبھی کبھی صبح تک، اگر کوئی کام پر نہ آئے۔ 11 یورو فی گھنٹہ۔ ٹیکس کاٹ کر مہینے کے تقریباً 1600 یورو بنتے ہیں۔ کیا یہ ٹھیک لگتا ہے؟ حقیقت میں نہیں۔ صرف میرے اخراجات دیکھیں: کمرہ: 550 یورو (بجلی پانی کے ساتھ، لیکن انٹرنیٹ کے بغیر) بجلی اور دیگر بل: 100 یورو انٹرنیٹ اور فون: 40 یورو (گھر والوں سے بات کرنے کے لیے) ٹرانسپورٹ: 55 یورو (بس اور میٹرو کا پاس) کھانا: 500 یورو (میں گوشت کم ہی کھاتی ہوں — یہ بہت مہنگا ہے) سبسکرپشن: 10 یورو (نیٹ فلکس — میری واحد عیاشی) کپڑے اور جوتے: 40 یورو (پرانے کپڑوں کی دکان سے) دوائیاں: 10 یورو اچانک آنے والے اخراجات: 100 یورو باقی بچتے ہیں: 195 یورو۔ 195 یورو کہنے کو تو رقم ہے، لیکن حقیقت میں نہیں۔ کیونکہ یہ اس ہر چیز کے لیے ہے جو میں بھول گئی، اور اس کے لیے جو کل ہوگا۔ اور کل ہمیشہ کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ میں تین سال سے اکیلی رہ رہی ہوں، جب سے میرا شوہر سے رشتہ ختم ہوا۔ ہماری برادری میں یہ بہت مشکل بات ہے، لیکن میں نے ہمت کی۔ وہ برا انسان نہیں تھا، مارتا نہیں تھا، چیختا نہیں تھا۔ اس نے بس مجھے دیکھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ میں گھر میں رکھے کسی فرنیچر کی طرح تھی — موجود، مگر کسی کی توجہ کے بغیر۔ میں چلی آئی۔ تب سے میں اکیلی ہوں۔ جب میں گھر پہنچتی ہوں، تو رات کے ساڑھے دس بج رہے ہوتے ہیں۔ گھر پرانا ہے، دروازے چرچراتے ہیں۔ پڑوسیوں کو پرواہ نہیں۔ وہ رات دو بجے موسیقی چلا دیتے ہیں۔ میں شکایت نہیں کرتی — ڈرتی ہوں کہ وہ مجھ سے نفرت نہ کرنے لگیں، اور میرے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔ میں اپنے کمرے میں داخل ہوتی ہوں۔ 9 مربع میٹر۔ بستر، الماری، میز۔ میز پر گھر کی ایک پرانی تصویر ہے، جو اچھے وقتوں کی یاد دلاتی ہے۔ میں بستر پر بیٹھتی ہوں۔ وردی اتارتی ہوں۔ کرسی پر رکھتی ہوں۔ کل پھر یہی پہنوں گی۔ پانی اب

вся сеть «v» в библиотеке рекламы ↗
все объявления: рекламодатель Aisha Mazhari →